کوئی اللہ سے مانگتے ہوئے، عبادت کرتے ہوئے بھی محروم اور مظلوم کیوں ہے؟ اور کوئی اللہ سے غافل ہوتے ہوئے بھی خوشی اور مال ودولت سے پھل پھول کیوں رہا ہے؟
اس طرح کے سوالات اور ان کی وجہ سے ہونے والی پریشانی کو میں سمجھ رہا ہوں کیوں کہ ایک وقت تھا جب میں بھی اسی طرح سوال اٹھاکر پریشان ہوا کرتا تھا اور کوئی اپنے جواب سے مجھے مطمئن نہیں کرپاتا تھا. پھر ایک وقت آیا جب میں عملی طور پر میدان میں اترا. اس کا مطلب یہ ہے کہ میں نے خود بہت سارے تجربات کرڈالے، اور میرا پریشان ذہن پرسکون ہوگیا. یوں سمجھ لیں کہ حقیقت کی معمولی سی کرن مجھ تک بھی پہنچی اور میرے تمام سوال تشنگی کے دشت سے نکل کر سیراب ہونے لگے
میرا پہلا سوال بھی ایسا ہی تھا. فلاں ایسا کیوں ہے؟ فلاں کے ساتھ ایسا کیوں نہیں ہے؟ میں کیوں یا وہ کیوں؟
جب میں نے عملی طور پر اللہ ، اپنے خالق و مالک سے ربط جوڑا تو مجھے پہلا جواب ملا کہ تم کچھ بھی نہیں جانتے کہ اللہ کس کے ساتھ کیا معاملہ کررہا ہے، لہٰذا تمھارا یہ سوچنا ہی غلط ہے کہ فلاں بندہ اتنا پھل پھول کیوں رہا ہے حالاں کہ وہ مسجد بھی نہیں جاتا. پھر میں سمجھا کہ (جو پہلے معلوم ہونے کے باوجود نہیں سمجھ پارہا تھا ) اللہ ہربندے سے الگ الگ امتحان لے رہا ہے. وہ کسی کو بے تحاشا دے کر آزما رہا ہے، کسی کو محروم رکھ کر آزما رہا ہے، کوئی سلامت ہے، کوئی اپاہج … کوئی رو رہا ہے، کوئی ہنس رہا ہے .. کوئی چپ ہے، کوئی بول رہا ہے، کوئی چیخ رہا ہے، کوئی سرگوشیاں کررہا ہے .. عجیب بازار سجا ہے، اور اس بازار میں کم ہی جانتے ہیں کہ یہ سب محض کھیل تماشا نہیں ہے… یہاں سب کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے اور وہ اس حقیقت کو نہیں دیکھ پا رہے ہیں جس کی رو سے اللہ یعنی مخلوق کے خالق نے ان سے اپنی ربوبیت پر گواہی لی، پھر اس نرالی مخلوق نے جب اللہ کے کلام کی ذمے دار اٹھالی تو اللہ نے انہیں کہا کہ اب آزمائش کے لیے تیار ہوجاؤ… ہر شخص کو اس کی مرضی کے امتحان میں ڈالا گیا، یا اس کی جتنی صلاحیت تھی، اس کو اسی دائرے میں رکھا… اندھا دھند کچھ بھی نہیں کیا گیا ہے.. ہم دنیا میں بھی اپنے امتحان کا علاقہ خود منتخب کرتے ہیں، یعنی کون سے مضمون میں امتحان دینا ہے اور کس میں نہیں… یہی روز ازل ہمارے ساتھ بھی ہوا ہے.. فرق صرف یہ ہے کہ اللہ نے زمین پر اتارنے سے قبل ہماری آنکھوں پر حقیقت چھپانے والی غیر مرئی پٹی باندھ دی ہے.. اس لیے ہم عجیب وغریب مشاغل میں الجھ کر رہ گئے ہیں.. زندگی کی عجیب عجیب تاویلات کرتے رہتے ہیں…اور اپنی پریشانیاں بڑھاتے رہتے ہیں
پھر میں یہ بھی سمجھا کہ مجھے بظاہر جو خوش و خرم نظر آرہا ہے، اس کی حقیقت کیا ہے، یہ میں نہیں جانتا.. میں یہ نہیں جانتا کہ فلاں شخص کے دل و دماغ میں کس قسم کی اذیت ناک جنگ جاری ہے.. وہ دولت کی موجودگی میں بھی کن کن محرومیوں کا شکار ہے… بظاہر پرسکون نظر آنے والا رات کو بستر پر کتنی کروٹیں بدلتا ہے
پھر میں یہ بھی جانا کہ یہ شخص جو بہت مطمئن ہے، کیوں کہ وہ کوئی دنیاوی محرومی کا شکار نہیں ہوتا، اور روزہ نماز سے بھی غافل ہے، یہ تو بڑا ہی بدقسمت بندہ ہے، یہ تو مجھ سے بھی زیادہ سخت امتحان میں ڈالا گیا ہے… اسے جب تک کوئی دکھ کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی، یہ اپنے رب کی طرف کیسے پلٹے گا؟ اسے اپنے خالق و مالک کی یاد کیسے آئے گی؟. اور میں یہ سوچ کر ڈر جاتا ہوں کہ اگر اللہ نے مجھے بھی اس طرح کے امتحان میں ڈالا ہوتا یا میں نے ایسے امتحان کے لیے خود کو پیش کیا ہوتا، تو میرا کیا بنتا؟. میں تو تباہ و برباد ہوجاتا کیوں کہ روز حساب جس شخص کے اعمال رد کردیے گئے، اس سے بڑا بدقسمت اور خسارہ اٹھانے والا تو کوئی نہیں… دراصل جب ہم روز جزا و سزا کو اپنے ذہن سے محو کردیتے ہیں تو اس طرح کے سوالات اٹھنا شروع ہوجاتے ہیں کہ فلاں تو اتنے مزے میں ہے، اللہ اسے کیوں ڈھیل دے رہا ہے… یعنی ہم اللہ کے کاموں میں دخل اندازی کرنا شروع کردیتے ہیں… کس کو کیسے رکھنا ہے، یہ تو اللہ کا کام ہے … ہم تو بندے ہیں، ہم دخل دینے والے کون ہوتے ہیں… اللہ نے ہماری ابتدا مٹی کے ایک پتلے سے کی ہے… سوچیں ذرا… آپ مٹی کا ایک پتلا بناتے ہیں، پھر اپنی مہارت سے اسے چلنا پھرنا سکھاتے ہیں، اپنی اہلیت سے بولنا سوچنا سکھاتے ہیں… اور اچانک وہ آپ ہی سے پوچھ بیٹھتا ہے، کہ تم نے یہ فلاں کام کیسے کردیا… تو آپ کا رد عمل کیا ہوگا… اللہ جب کسی کو ڈھیل دیتا ہے اور جب کسی کو محروم کرتا ہے ، اس نے حساب کتاب کا دن بھی تو مقرر کر رکھا ہے، اس دن تو کامیابی صرف اسی شخص کو ملنی ہے نا، جس نے وہی کچھ کیا ہوگا جو اس سے اللہ کا مطالبہ رہا ہوگا… پھر ہم کیوں ان باتوں پر پریشان ہوتے ہیں
وہ کسی کو بے تحاشا دے کر آزما رہا ہے، کسی کو محروم رکھ کر آزما رہا ہے، کوئی سلامت ہے، کوئی اپاہج … کوئی رو رہا ہے، کوئی ہنس رہا ہے .. کوئی چپ ہے، کوئی بول رہا ہے، کوئی چیخ رہا ہے، کوئی سرگوشیاں کررہا ہے .. عجیب بازار سجا ہے، اور اس بازار میں کم ہی جانتے ہیں کہ یہ سب محض کھیل تماشا نہیں ہے
آپ غور کریں، میں نے اپنے سوچنے کا انداز بدلا، درحقیقت اللہ نے میری مدد کی. میں نے یہ سوچنا چھوڑ دیا کہ فلاں ایسا کیوں ہے اور میں یا وہ ایسا کیوں نہیں.. اس کی بجائے میں نے اس طرح سوچنا شروع کردیا کہ فلاں ایسا ہے اگر میں ایسا ہوتا تو کیا ہوتا… تب میں سمجھا کہ اللہ آپ کو جس حال میں رکھتا ہے، وہ آپ سے ایک ہی مطالبہ کرتا ہے کہ اُسے اُس حال میں یاد رکھو.. ہم محرومی کا رونا اس وقت روتے ہیں جب ہماری نظر میں دنیا اور دنیاوی مال و اسباب ہی بنیادی اہمیت اختیار کرتے ہیں.. اگرچہ دعویٰ ہم یہ کرتے ہیں کہ اللہ، آخرت، جنت، دوزخ، قیامت کی اہمیت سب سے زیادہ ہے لیکن عملی طور ہم اس کے برعکس عمل کرتے پائے جاتے ہیں… ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں فلاں چیز یا نعمت نہیں ملی، یہ تو اللہ نے ہمارے ساتھ زیادتی کی ہے .. اور ہم اس وقت بھول جاتے ہیں کہ یہ دنیا اور اس کا مال و اسباب محض چند روزہ ہے، اس کی کوئی حیثیت کوئی اوقات نہیں… میدان حشر کا ایک دن بھی ہماری زندگی کے ہزاروں سال سے زیادہ ہے، اس تکلیف کے بارے میں اگر ہم سوچنا شروع کردیں تو ہماری نگاہ بدلنے لگتی ہے .. ہم شکوہ شکایت یا اس طرح کے سوال کم کرنے لگتے ہیں کہ کسی پر نعمتوں کی بارش اور کوئی تشنہ لب کیوں ہے؟
پھر میں یہ بھی سمجھا کہ اللہ دراصل ہمیں ایسے حالات سے دوچار کرکے چاہتا کیا ہے؟ ہمارے سامنے ایسے حالات کیوں آتے ہیں جنہیں دیکھ کر ہمارا دل للچانے لگتا ہے؟. تو جواب ملا کہ ہم صبر اختیار کرنا سیکھیں.. صبر کامیابی کی کلید ہے یعنی کنجی.. اللہ خود کہتا ہے کہ انسان بڑا بے صبرا ہے.. وہ ذرا سے ناموافق حالات دیکھ کر چیخ اٹھتا ہے، اور اچھے حالات دیکھ کر اللہ کو بھول جاتا ہے، سمجھتا ہے یہ تو اس کا حق ہے … یہاں وہ ناشکرا ہوجاتا ہے … سورہ عادیات میں فرماتا ہے کہ .. ان الانسان لربہ لکنود …. درحقیقت انسان بڑا ناشکرا ہے … وہ نعمتوں کا غلط استعمال کرتا ہے اور پھر جب اس پر کوئی آفت ٹوٹتی ہے تو وہ چیخ اٹھتا ہے
صبر … اتنی اہم چیز ہے کہ اس کے بغیر اخروی کامیابی ممکن ہی نہیں ہے.. اللہ نے اسے ایمان اور عمل صالح کے بعد رکھا ہے… اگر ہم برے حالات میں صبر سے کام نہیں لیتے تو پھر اللہ بھی ہمیں درد کی دنیا میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیتا ہے
میدان حشر کا ایک دن بھی ہماری زندگی کے ہزاروں سال سے زیادہ ہے، اس تکلیف کے بارے میں اگر ہم سوچنا شروع کردیں تو ہماری نگاہ بدلنے لگتی ہے .. ہم شکوہ شکایت یا اس طرح کے سوال کم کرنے لگتے ہیں کہ کسی پر نعمتوں کی بارش اور کوئی تشنہ لب کیوں ہے؟
بہوت ہی نازک موضوع پر قلم اٹھایا ہے – اور خوب نبھایا بھی ہے-
کیا وہ نمرود کی خدایی تھی
بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا
لیکن بندگی کرتے رہیں یہ ہی ہماری زندگی ہے باقی الله ما لک ہے
بے شک اللہ ہی مالک ہے …