4 Comments

فریبِ خیال

فریبِ خیال

سر رہ گزر جو بجھا پڑا ہے
وہ خواب ہے
یہ جو شہر پر ہے تنا ہوا
یہ وجود خیمہء دود ہے
یہ عذاب ہے

ذرا سادگی ہو ملاحظہ
کہ تڑپ رہی تھیں جو انگلیاں
انہیں چشم خواب میں گھونپ کر
مری چھین لی ہیں بصارتیں

مرے تشنہ لب ترے زیرپا
مری آبرو ترا زَہرخند
تو قدم سے تابہ دَہن ستم
مرے خواب پر، نہ خیال پر
کبھی پڑسکا ترا سایہ چشمِ کرم کا
اے، مرے شہر آرزو سن لے تو
میں ترے قدم سے قدم ملاکے
جواں ہوا

مجھے راکھ اپنی کریدنے کو ملی نہیں
مجھے شک نہیں، ہے یقین یہ
مری زندگی کا جو خواب تھا
وہ اسی میں تھا

شبِ آرزو، شبِ جستجو
اسے روشنی کی کرن سمجھ کے نہ کھا فریب
یہ نشان ِ صبح نہیں نہیں
یہ تو خون ہے

Faraib-e-Khayaal

***
Sar-e-rehguzar jo bujha paRa hay
Wo khwab hay
Ye jo shehr par hay tanaa hua
Ye wajood khaima-e-duud hay
Ye azaab hay

Zara saadgi ho mulahiza
K tarap rahi thein jo ungliaaN
Unhain chashm-e-khwab main ghonp kar
Meri cheen li hain basarataiN

Meray tishna lab teray zair-e-paa
Meri aabroo tera zahr khand
Tu qadam say taa ba dahan sitam
Meray khwab par na khayaal par
kabhi paR saka tera saaya chashm-e-karam ka
Ae, meray shehr-e-aarzo sun lay tuu
Main teray qadam say qadam mila k
JawaaN hua

Mujhe raakh apni kuraidnay ko mili nahi
Mujhey shak nahi, hay yaqeen ye
Meri zindagi ka jo khwab tha
Wo osi main tha

Shab-e-aarzoo, shab-e-justujoo
isay roshni ki kiran samajh k na khaa faraib
Ye nishaan-e-subh nahi nahi
Ye tu khoon hay!

Advertisements

4 comments on “فریبِ خیال

  1. تو قدم سے تابہ دَہن ستم
    مرے خواب پر، نہ خیال پر
    کبھی پڑسکا ترا سایہ چشمِ کرم کا

    بہت عرصے کے بعد ایک بہت اچھی نظم پڑھی ہے –

    ہم آگہی کو روتے ہیں اور آگہی ہمیں
    وارفتگی ے شوق کہاں لے چلی ہمیں

    یہ آگہی کی سوغات ہے – حسا س دل دکھتا رہتا ہے-
    خواب اور خواہش کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں ہوتا- دونوں ایک ہی ہیں –
    شیر _ آرزو ، آج کا پاکستان، اس کی مثال ہے-
    اپ نے جذبات کا خوب ہی عمدہ طریقے سے اظہار کیا ہے-

    • شاعری سے جڑنے میں آپ کو کچھ بہت زیادہ زحمت نہیں اٹھانی پڑتی- آپ کا وجدان ربط قایم کرتے ہوئے کلام کی تہ تک پہنچ جاتا ہے
      میں آپ کا بے حد ممنون ہوں- آپ کا بے لاگ اظہار حوصلہ افزا ہوتا ہے

      • مجھے راکھ اپنی کریدنے کو ملی نہیں
        مجھے شک نہیں، ہے یقین یہ
        مری زندگی کا جو خواب تھا
        وہ اسی میں تھا

        ہم اور آپ دونوں میں قدر مشترک ہے آگہی کی. حساسیت کی. فرق یہ ہے کہ آپ میں اپنے احساسات کو خوبصورتی سے ظاہر کرنے کی صلاحیت ہے اور ہم اس معاملے میں کورے ہیں.

        غالب آپ سے زیادہ خوشنصیب تھے کس را کھ کریدتے تھے- آپ (اور ہم) کو تو وہ بھی نہیں ملتی اکثر-

        جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہو گا
        کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے-

        • اچھا یاد دلایا یہ شعر
          غالب نے تو کہا ہے کہ دل بھی ساتھ ہی جل گیا ہوگا، راکھ کرید کر دیکھنے سے کوئی فایدہ نہیں
          لیکن یہاں صورت حال واقعی مختلف ہے
          ہم تو ایسی جبری زندگی گزار رہے ہیں، کہ جسم و جان جل جاتے ہیں، لیکن راکھ تک کردینے کو نہیں ملتی- یہ آج کا جبر ناروا ہے- ہم اپنے خوابوں کا تعاقب بھی نہیں کرسکتے- گنتی کے چند ہم نفسوں نے ہم پر زندگی اتنی تنگ کردی ہے کہ جل کر راکھ تو ہوسکتے ہیں لیکن ایسے میں بھی اف کرنے کی اجازت نہیں
          ہم صبح سے شام تک گھس گھس کر ختم ہوجاتے ہیں لیکن اپنے خواب کے ترغیب آفریں خوبصورت جسم کے سائے تک بھی رسائی حاصل نہیں کرپاتے
          تو پھر جبر اور کیا ہے

Comments Please

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: