Leave a comment

سبز آگ کا شیدائی

سبز آگ کا شیدائی

(دانیال طریر شعری مجموعے ’خواب کمخواب‘ کے آئینے میں)

رفیع اللہ میاں


دل خلوص سے معمور ہے جو اَب درد بن چکا ہے؛ روح اپنے قید خانے پر رحم کیے بغیر دنیا جہان کے جہان معنی کی سیر کرانے میں مگن ہے‘بدن کا قید خانہ کوئٹہ سے لاہور اور لاہور سے کراچی اور ملک کے ادھر ادھر بکھرے پڑے تباہ حال شہروں اور قصبات کے دوروں پر اس طرح مامور ہے جیسے عبادت میں مشغول ہو؛ اور اس پر شعری وجدان جو کبھی خاک اور کبھی روح میں ڈبکیاں لگاکر موتی نما شعر نکال کر اپنے ارد گرد اساطیری مناظر یکے بعد دیگرے سجا رہا ہے؛ تو اس تھکادینے والے سفر کے بعد جب وہ گھر لوٹتا ہے تو بستر پر دراز ہونے کے بعد نیند اور بے خوابی کی درمیانی کیفیت میں طاقچے میں رکھے دیے کے لیے ایک انوکھی چیز بن جاتا ہے، دیے کی آنکھ سوچتی ہے کہ یہ سفر سے تھک کر آیا ہوا کمخواب سوگیا ہے یا تاحال سفر میں ہے۔

ابھی جاگا ہوا ہوں میں کہ تھک کر سو چکا ہوں
دئیے کی لو سے کوئی آنکھ مجھ کو دیکھتی ہے

یہ دانیال طریر ہے جس کا اسپِ خیال نظم سے غزل اور غزل سے تنقید کی سرزمینِ بے آب و گیاہ میں بے تھکان دوڑتا ہے۔ ایک تازہ کار شاعرِ نظم کے تناظر میں جب ہم ان کی غزل پڑھتے ہیں تو دو چیزیں ہمیں خاص طور پر اپنی جانب کھینچتی ہیں اور یہ احساس دلاتی ہیں کہ غزل میں آپ کو ایک جانا پہچانا دانیال طریر جلوہ گر ملے گا‘ جس نے اقلیم غزل میں قدم دھر تو دیا ہے لیکن نظم کا سحر ابھی خوابوں کی بے طرح خوگر آنکھوں سے اُترا نہیں ہے۔ اوّل‘ سماجی زندگی کے مخصوص علائم اور ثقافت کے گہرے مظاہر‘ دوم اسطورہ‘ جس کو وہ عجیب طرح سے برت کر قدیم و جدید کے مابین قابل گزر پل بنادیتا ہے۔ یہ اس روح کے سبب ہے جو قرار کے پردے میں متمکن دکھائی دیتی ہے لیکن اسے بے قراری کے پَر لگے ہیں اور وہ پھڑپھڑانے سے باز نہیں آتے۔ میں دانیال سے ملا نہیں ہوں لیکن انھیں تصویر میں دیکھ کر ہربار حیرت سے ضرور ملتا ہوں‘ سوچتا ہوں کہ شاید اس روح سے ملاقات ہوجائے جس نے اپنی مٹی کا بدن پہنا ہے لیکن اس پہناوے کو اپنے راستے کی رکاوٹ بننے نہیں دیا اور پھر دیومالائی جہانوں سے بھی اپنے انداز میں ہاتھ ملانے پہنچ جاتا ہے۔

ہاتھوں میں ریکھائیں پیلے موسم کی
سبز پری خوابوں میں رکھی جاتی ہے

الٹے ہاتھوں ہم نے جتنی دعائیں مانگی ہیں
جلتی دھوپ اور تو ہے ان کا حاصل اے صحرا

تماشے کے سبھی کردار مارے جا چکے ہیں
کہانی صرف اک تلوار لے کر جا رہی ہے

رکھنے سے ڈر رہا ہوں اسے آگ کے قریب
رستے میں ایک سانپ ملا ہے جما ہوا

جنہوں نے خاک سے مل کر مجھے بنایا تھا
میں اپنی راکھ انہی پانیوں میں ڈال آیا

ہم کو منقش قصر بنانا آتا ہے اب بھی
اب بھی ہم کو بھاری پتھر ڈھونا آتا ہے

دانیال طریر کی غزل کے مضامین پر بات کرنا کچھ آسان ہرگز نہیں ہے۔ ایک طرف مضامین کی کہکشاں تو دوسری طرف ہر مضمون میں جہان معنی کا ورود۔ شاعر کا تعلق بلوچستان سے ہو‘ وہ شاعر جو اپنے آب و گِل میں کسی مجذوب کی طرح بھیگا اٹا ہو؛ اور وہ ویران شہروں اور آباد پہاڑوں کے پس منظر میں اپنی درد بھری آواز نہ بلند کرتا ہو‘ ممکن نہیں۔ اس لیے ان کا درد غزل کی ترنگ بننے میں دیر نہیں لگتی۔ انھیں لگتا ہے کہ ان کے چہرے کی جانب کہیں سے ہاتھ بڑھ رہے ہیں اور سرخ ہوتی آنکھ انھیں دیکھ رہی ہے۔ دیہی زندگی جو دانیال کے ہاں خالصیت اور محبت کے سرچشمے کی علامت ہے۔ اس میں امید بھی ہے لیکن انتظار کی کیفیت ایسی ہے کہ موت تک جاپہنچتی ہے۔ اور ان سب کا اظہار ایک ایسے شعری لہجے سے ہمیں متعارف کرارہا ہے جوپُرقوت ہے۔

آخر جسم بھی دیواروں کو سونپ گئے
دروازوں میں آنکھیں دھرنے والے لوگ

درختو! مجھ کو اپنے سبز پتوں میں چھپا لو
فلک سے ایک جلتی آنکھ مجھ کو دیکھتی ہے
میں جب بھی راستے میں اپنے پیچھے دیکھتا ہوں
وہی اشکوں میں بھیگی آنکھ مجھ کو دیکھتی ہے

آخری شعر میں نہ صرف شہر سے رخصت ہوتے بلوچ نوجوان کا دکھ ہے جو امید کا استعارہ ہے بلکہ یہ صوبے کی حدود سے نکل کر طول و عرض پر محیط ہوتے ہوئے جذبے اور پھر رومانی سطح پر ایک دل کش احساس میں ڈھلتے خیال کا حامل بنتا نظر آتا ہے۔

کھیت جب سوکھ گئے تب ہمیں احساس ہوا
گاؤں تک شہر کے موسم کو سڑک لے آئی

دانیال نے اپنی غزل میں درد کے خالص زمینی رشتوں کی شش جہات سے روشناس کرایا ہے۔ خواہ وہ روشنی کے التباس کا دکھ ہو، ریت برساتے بادل کا دکھ ہو، خون اگلتے پھولوں کا دکھ ہو، آنکھ سے خواب کے چرائے جانے کا دکھ ہو، جیتے جاگتے قصبات کی ویرانی کا دکھ ہو، خواہ حدنگاہ تک ظلم پرزبانوں کی خموشی کا دکھ ہو، ان کی غزل اس درد سے بھری ہوئی ہے۔ ان کے پُردرد اشعار نہایت دل موہ لینے والی اساطیری فضا تخلیق کرتے ہیں۔ ان کا فن یہ ہے کہ انھوں نے اپنے دکھ کے کینوس کو اپنے انداز بیان، اپنے تخیّل کی بلند پروازی، جدید استعاراتی و تشبیہاتی نظام سے لامحدود وسعت عطا کی ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ دکھ ہمیں کائناتی محسوس ہوتا ہے۔

میں سبز پرندے کی طرح شہر سے جاؤں
پیڑوں کو مری نقل مکانی نظر آئے
تالاب مرے خواب کے پانی سے بھرا ہو
اور اس میں پڑا چاند کہانی نظر آئے

شام ناراض پرندے کی طرح لوٹ گئی
رات کو آ کے ڈرائیں نہ بلائیں، آمین
خواب مر جائیں تو قبروں میں انہیں دفن کریں
اور ہر قبر پہ ہم دیپ جلائیں، آمین

مر گیا رات کو برف اوڑھے ہوئے ایک فٹ پاتھ پر
وہ جو کہتا رہا لفظ دو عمر بھر، شانتی، فاختہ

طریر آنسو ہیں اور دھندلاہٹیں ہیں
یہ کیسی کہکشاؤں کی جلو ہے

یہیں ستاروں بھری جھیل کے کنارے پر
پڑی ہوئی تھی محبت مری ہوئی میری

اگر میں کہوں کہ دانیال طریر اپنے اشعار میں متعدد شعوری و غیر شعوری رویوں کی رداؤں میں لپٹا ہوا ملتا ہے تو یہ کچھ غلط نہ ہوگا۔ وہ اسرار کا شیدائی تو ہے ہی وگرنہ بستر پر کروٹ بدلتے، سرہانے کی ایک طرف رکھے اسطورے کو دیکھ کر مسکرانے کا سامان کیوں کرتا؛ مگر وہم کو بھی وہ اپنی ثقافت کے کسی اہم اور مقدس مظہر کی طرح پیار کرتا نظر آتا ہے۔ یہ وہم کئی حوالوں سے اہم ہے۔ اس کا ایک حوالہ اژدر، سرخ پرندہ اور آسیب جیسی علامتوں کے ذریعے اپنی زمین (جو بلاشبہ اظہار کے کرشمے سے اپنی حدود کرہ ارض کے طول و عرض تک پھیلادیتی ہے) پر مسلط خوف سے جڑا ہے تو دوسرا حوالہ زنگ لگے آئینے کو دیکھ کر اپنے سراپے اور اپنے اظہار میں اجنبی رنگ پاکر اپنے داخلی وجود کے انکشاف سے منسلک ہے۔ شعری مجموعے ’خواب کمخواب‘ کی اس ابتدائی غزل کی ردیف ’دیکھا ہے خدا خیر‘ اس جدید شاعر کو تہذیبی سلسلے میں پیوست کرکے دانیال طریر کی صورت میں پیش کرتی ہے۔

اک طرزِ پراسرار میں دیکھا ہے خدا خیر
سایا کوئی دیوار میں دیکھا ہے خدا خیر

میں سمجھتا ہوں کہ دانیال کے شعری نظام تک رسائی کے لیے ضروری ہے کہ اس بنیادی مزاج تک پہنچا جائے جو ان کے شعری رویوں کے خدوخال کی وضاحت میں معاون ہوسکتا ہے۔ ابھی میں نے وہم کا ذکر کیا جو بے سبب نہیں ہے؛ وہم کا تعلق بالکل زیریں سطح پرعام سماجی تصورات سے ہے۔ علم کی بنیاد پر اسے رد تو کیا جاسکتا ہے لیکن ایک مخصوص سماج میں رہتے ہوئے اس کے کسی نہ کسی سطح پر اثرات ضرور مرتب ہوتے ہیں۔ لیکن دانیال نے اپنے ماحول کو اس طرح اوڑھا ہے کہ وہم بھی ان کی نظروں میں قدروقیمت اختیار کرگیا ہے۔ وہ اس وہم کو مثبت طور پر برت کراُن مرے ہوئے لوگوں کو زندہ کرکے اپنے گرد اساطیری ماحول پیدا کردیتے ہیں جن سے ان کا تعلق روحانی ہے؛ اور یہ تعلق ان کی تخلیقی صلاحیت کو مہمیز دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی غزل میں ہمیں نہایت تازہ کاری اور لب و لہجے کی انفرادیت اپنی طرف کھینچتی ہے۔

میں نیست اور نبود کی اک کیفیت میں تھا
جب وہم ہست و بود میں گوندھا گیا مجھے

اساطیر کی بات ہو تو ”یہ دل اگلے زمانوں تک پہنچنا چاہتا ہے“ کہ کر بات کرتا ہے۔ لیکن اپنے ارگرگرد پر نگاہ پڑتی ہے تو شعری طبیعت میں گھن گرج آجاتی ہے ”جنونی ہوگیا ہے میرے دریاؤں کا پانی“ اور”پتنگا ایک پاگل ہوگیا ہے روشنی میں“ اور”نہیں آیا یہ اژدرپربتوں کی سیر کرنے،زمینوں کے خزانوں تک پہنچنا چاہتا ہے“ جیسے سیاسی اور انتظامی زمینی حقیقتوں کو کھولتا چلا جاتا ہے۔ وہم کے علاوہ اژدر،خوف اورخدا ایسے عناصر ہیں جو اُن کے شعری مزاج کو سمجھنے میں معاون ہیں۔ دریاؤں کا قاتل پانی، پیڑ پراژدر اور خوف تو انھیں اپنے ماحول پر مسلط ملا ہے مگر خدا وہ عنصر ہے جس تک وہ اس روح کے ذریعے پہنچا ہے جو اگلے زمانوں کی محبت میں بری طرح گرفتار ہے۔ خدا اُن کی شعری کائنات میں بنیادی عنصر کے طور پر کارفرما ہے جس کے ساتھ تمام تر بے بسی کے باوجود وہ رشتہ توڑنے پرتیار نہیں۔

میں تیرے ساتھ اڑتا پھر رہا تھا آسماں میں
خدا کو بھول جانے کا ارادہ ہی نہیں تھا

ان کی شاعری میں اساطیرالاولین کی کشش کے حوالے تو جابجا مل سکتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ دانیال کی بے چین روح ماضی ہی نہیں بلکہ مستقبل کا بھی سفر کرنا چاہتی ہے۔ ان کے خارج نے ان کے اندروں تخلیقی صلاحیت کے ساتھ جانے کس قسم کا سمبندھ جوڑا ہے جس کے نتیجے میں وہ ماضی کے ساتھ مستقبل میں آنے والے زمانوں کی کیفیات سے بھی اپنے جسم و جان کو جل تھل کرنے کی شدید تمنا رکھنے لگا ہے۔ شاید وہ کسی دن اس شعر کی طرح اپنے اس مابعدالطبیعیاتی جذبے کی وضاحت بھی کردے۔

طریر اک بار جینا چاہتا ہوں
جو سب آئندگاں کی کیفیت ہے

جس شاعر نے غالب کو جدیدیت اور مابعد جدیدیت ایسے نظریات کی روشنی میں پرکھا ہو، اس کی اپنی شاعری کا رنگ عصری رجحان سے منھ کیسے موڑ سکتی ہے۔ لیکن وہ اس رجحان کے دائرے میں اپنے ہی رنگوں سے مزین عناصر پر مشتمل ایک جہانِ خیال آباد کرتا ہے۔ دیکھا جائے تو وہ پہلے سے قائم تصورات، عقائد اور اقدار کو رد نہیں کرتا؛ تاہم وہ نئی توجیہات ضرور لے کر آتا ہے اور حدود و قیود کو مقدر جان کر بیٹھنے والوں میں سے نہیں۔ جو شاعر اس قسم کے خوش خیال شعری عقیدے رکھتا ہو‘ اس کی تخلیقی اڑان کے مستقبل کا اندازہ کرنا زیادہ مشکل امر نہیں ہے۔

ہو نہ ہو اپنی بصارت نے مجھے روکا ہے
غیب جاتے ہوئے دیوار نہیں ہو سکتی

ہمارے آنسو چمک رہے ہیں ستارے بن کر
تری حسیں کہکشاں سے آگے اور اس سے آگے

دانیال بھی ایک عام آدمی کی طرح طلسماتی دنیاؤں کی کشش کے آگے بے بس ہے۔ سبز آگ، سبز مٹی، سبز پرندے، سبز پری ایسی علامتیں ہیں جن سے وہ اپنے اشعار کے گرد ایک طلسماتی دنیا بسادیتا ہے۔ آج کا دور میجک رئیلزم کا دور ہے اگرچہ ہر دور میجک رئیلزم کا دور رہا ہے مگر آج اس نے بڑے سائنسی انداز میں نیا لبادہ اوڑھ لیا ہے اور یہ مزید پرکشش ہوگئی ہے۔ چونکہ وہ اپنے سماج، ثقافت اور زمین سے جڑا ایک حقیقت پسند تخلیق کار ہے‘ اس لیے اپنی تخلیقی اُپج کو طلسمی پردوں پر ابھارنا ان کا ایک عام تخلیقی رویہ بن چکا ہے۔ یہ دیکھیے

یہ طلسمات کی دنیا ہے یہاں کیا معلوم
ایک دن مصر کے اہرام کو پر لگ جائیں

میں پھول چومنے آگے بڑھا تو پھول نہ تھا
وہ باغ کیسے طلسمات کا بنا ہوا تھا
میں جل پری کے لیے جل تلاش کرنے گیا
پلٹ کے آیا تو برسات کا بنا ہوا تھا

پھول پھنکارتے ہیں ڈستے ہیں
کیا عجائب بھری کہانی ہے

”خواب کمخواب“ کا شاعر دھنک کے رنگوں کی طرح خواب جلاتا اور بجھاتا چلا جاتا ہے۔ خواب ان کے لیے آزار ہے، سراب ہے، رائیگاں ہے، لایعنی ہے، جھوٹا ہے، کمزور ہے؛ اور خواب امید و تبدیلی کی ایک صورت بھی ہے، امن اور روشنی بھی ہے، محبت بھی ہے؛ اسے جتنا روندا جائے، کچلا جائے، یہ زندہ رہتا ہے، لیکن یہ قتل بھی ہوسکتا ہے اور اس پر پابندی بھی لگ سکتی ہے!

اس چشم نیم باز کی خوابیدگی کی خیر
جیسے اسے یہ خواب سنانے کی دیر تھی

میں کسے خواب سنانے کے لیے آیا ہوں
شب اگر نیند سے بیدار نہیں ہو سکتی

ان دنوں آنکھوں کی تقدیریں ہیں کس کے ہاتھ میں
کون آخر ان دنوں پروردگار خواب ہے

دانیال کی غزل کو نظمیہ احساس کا پرتو سمجھ کر یا کہ کر نظر انداز کیا جانا آسان نہیں‘ کیوں کہ جدید طرز اظہار اور آج کی المیاتی زندگی سے جنم لینے والے خیالات ان کی غزل کو ایسے طلسماتی رنگ دے رہے ہیں، جو دیگر خواص کے ساتھ ساتھ دل پذیر بھی ہیں۔

دیے سے لو نہیں پندار لے کر جا رہی ہے
ہوا اب صبح کے آثار لے کر جا رہی ہے

تجھے سنائی نہ دی کیا دکھائی بھی نہیں دی
دعا ، چراغ کی لو پر دھری ہوئی میری

مہیب شب میں جلا ہوا تھا مرا بدن بھی
ہوا نے آکر بجھا دیا ہے دیا بدن بھی

مجھے تو لاج کے اُجلے لباس میں وہ بدن
گلاب برف میں جیسے چھپاو¿ ایسا تھا

یہ زمینوں پہ لہکتی ہوئی گندم کی مہک
آسمانوں کی طرف دار نہیں ہو سکتی

جسم پر سرد ہواؤں کی فسوں کاری تھی
دھوپ تعویذ نہ کرتی تو مرا کیا ہوتا

حنائی پاو¿ں رگڑتے ہوئے نہ گھاس پہ چل
تجھے خبر ہے کہ بھاتی ہے سبز آگ مجھے

سبز آگ کے اس شیدائی شاعر کے اپنے وجود کے اندر کہیں سبز آگ بھڑک رہی ہے جس میں طلسماتی کشش ہے اور وہ اس کی لپٹوںمیں دھیرے دھیرے راکھ ہوتا جارہا ہے۔اپنے راکھ ہوتے وجود سے انھوں نے منطقہ¿ شعروادب کوکئی موتی فراہم کیے ہیں۔ نظم اورتنقید ان کاخاص میدان ہے لیکن وادی غزل میں بھی انھوں نے اپنا پڑاﺅ ڈالا ہے۔ ’خواب کمخواب‘ غزلوں کا ایک ایسا مجموعہ ہے جوقاری کوفاصلے پر رکھ کر ساتھ چلانے کی بجائے اپنے پہلومیں لگاکرآگے بڑھتا ہے اور پوری کتاب کے ایک ایسے مجموعی تاثر کی لپیٹ میں لیتا ہے جوآج کی اردو شاعری میں بلاشبہ نہ ہونے کے برابر ہے کیوں کہ آج کانقاد یا مضمون نگار شعری مجموعوں کو یہ سوچ کرہاتھ لگاتا ہے کہ جدت ِ بیان اور ندرت خیال کے حامل گنتی کے چنداچھے اشعار تو ہاتھ آہی جائیں گے‘ اگرچہ پورے مجموعے کا تاثر کچھ خاص نہ بھی مرتب ہوتا ہو۔ دانیال طریرکے اس شعری مجموعے کی یہی خاصیت ہے جواسے نمایاںحیثیت کے ساتھ متعارف کراتی ہے۔ ’خواب کمخواب‘ کے اس شعر پر اپنی گفتگو کا اختتام کرتا ہوں جو مادیت پرستوں، غاصبوں اور انسانی قدروں کو نوچنے کسوٹنے والوں کے غلبے پر زبردست چوٹ کرتا ہے اور مابعدجدیدی تصور کی حقیقت کوآشکارکرتا ہے:

میرے چاروں جانب اونچی اونچی گھاس
میرے چاروں جانب چرنے والے لوگ

Advertisements

Comments Please

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: