Ghazal

زیست کا اہتمام لب سے ہے

عنبریں ہے کلام، سب سے ہے
زیست کا اہتمام لب سے ہے
Ghazal By: Rafiullah Mian

Advertisements

اپنی دنیا سے تو میں، پارہ پارہ اٹھتا ہوں

دریا دریا بہتا ہوں، قطرہ قطرہ اٹھتا ہوں
صدیاں صدیاں بیت چکیں، لمحہ لمحہ اٹھتا ہوں
Ghazal By: Rafiullah Mian

زمیں کی کشکول میں دعا ہے

میں جان قربان تجھ پہ کردوں
خیال کتنا یہ جاں فزا ہے
Ghazal By: Rafiullah Mian

انساں گزیدہ شہر کے خوابوں کی باس میں

انجان ریت میں مرے ہاتھوں سے پل گیا
بس ڈوبنے کو تھا کہ اچانک سنبھل گیا
Ghazal By: Rafiullah Mian

وجودِ شوق میں اقلیم غم اسی لیے ہے

ترے دمن میں تو یارائے آب جو ہی نہیں
سمندروں میں سمٹنے کی آرزو ہی نہیں
Ghazal By: Rafiullah Mian

لوگ اس گلی کے پھر، دیر تک تڑپتے ہیں

آدمی ٹھہر جاؤ تم کسی تو حالت پر
اِس گھڑی بکھرتے ہو، اُس گھڑی سنورتے ہو
Ghazal By: Rafiullah Mian

تیرے پہلو میں شام کرتا ہوں

تھک کہ جس دم قیام کرتا ہوں
تیرے پہلو میں شام کرتا ہوں
Ghazal By: Rafiullah Mian